وزارت پیٹرولیم میں 48 ارب کی ایل این جی فروخت کرنیکا نیا اسکینڈل

February 1, 2016 3:56 pm0 commentsViews: 14

اوگرا کی طرف سے تاحال نوٹیفکیشن جاری ہونے سے قبل ہی مختلف پاورپروڈیوسرز قیمتوں کو فروخت کردی گئیں، نیب نے ریکارڈ کا جائزہ لینا شروع کردیا
ایف بی آر کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف، ارشد حکیم اور سلیمان حکیم کیخلاف گھیرا تنگ، پیپلز پارٹی کے تینوں چیئرمینوںنے اربوںروپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بھاری کرپشن کی
اسلام آباد( آن لائن) وزارت پیٹرولیم میں48 ارب روپے کی ایل این جی فروخت نیا اسکینڈل سامنے آگیا۔ نیب نے اربوں روپے کی ایل این جی کی فروخت کے ریکارڈ کا جائزہ بھی لینا شروع کر دیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، سیکریٹری پیٹرولیم ارشد مرزا سوئی سدرن گیس کمپنی اور پی ایس او کے سربراہوں سے بھی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ وزارت پیٹرولیم نے48 ارب روپے کی ایل این جی کے19 شپ در آمد کئے ہیں۔ ایک ایل این جی شپ کی قیمت25 ملین امریکی ڈالر ہے، یہ در آمدات حکومت نے اوگرا کی طرف سے ایل این جی ریگولیشن کی خلاف ورزی کرکے کی ہیں حکومت نے48 ارب روپے کی یہ ایل این جی مختلف پاور پروڈیوسر کمپنیوں کو فروخت کیں۔ اوگرا نے تاحال ایل این جی کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اوگرا کی طرف سے نوٹیفکیشن کے اجراء کے بغیر ایل این جی کی در آمد اور فروخت کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔ نیب نے ایف بی آر میں اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ ایف بی آر کے سابق چیئر مین عبداللہ یوسف ، ارشد حکیم اور سلیمان صدیق کے خلاف گھیرا تنگ ہونے کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی دور حکومت کے تینوں سابق چیئر مینوں نے ایک غیر ملکی کمپنی کو اربوں روپے کا ٹھیکہ دیا تھا جس میں مبینہ طور پر بھاری کرپشن کی گئی تھی اور نیب اس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے میں مصرو ف ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے سابق چیئر مینوں کی مبینہ کرپشن کے خلاف تحقیقات کی اجازت ایگزیکٹو بورڈ نے دی تھی۔