اڈیالہ جیل میں ابھی بہت گنجائش ہے، اگر وزیراعظم کو بلالیا جائے تو جانے نہیں دینگے، سپریم کورٹ

February 2, 2016 2:35 pm0 commentsViews: 15

ہم نے اپنا کام مکمل کرلیا اب عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر وزیراعظم کی جانب سے ہورہی ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن
عدالتی احکامات کی روشنی میں 48 گھنٹے کے اندر متعلقہ افسر کی تمام مراعات بحال کردی جائیں گی، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرادی
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) عدالتی حکم پر عملدرآمد میں رکاوٹ بننے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اڈیالہ جیل میں ابھی بہت گنجائش ہے اگر وزیراعظم کو بلایا تو پھر واپس جانے نہیں دیں گے۔ میڈیا کے مطابق کسٹم افسر کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے طلبی کے باوجود سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اسٹیبلمشمنٹ ڈویژن نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور اب عدالتی احکامات پرعمل درآمد میں تاخیر وزیراعظم کی جانب سے ہو رہی ہے۔ اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر وزیراعظم عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہیں تو کیوں نہ انھیں ہی طلب کر لیا جائے اور اگر وزیراعظم کو طلب کیا گیا تو پھر وہ واپس نہیں جائیں گے، اڈیالہ جیل میں ابھی بہت گنجائش ہے۔ حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں 48 گھنٹے کے اندر متعلقہ افسر کی تمام مراعات بحال کر دی جائیں گی جس پر عدالت نے سماعت2 روز کیلئے ملتوی کردی۔