بلال شیخ اور خالد شہنشاہ کو پیپلزپارٹی کی قیادت کے کہنے پر قتل کیا، عزیر بلوچ

February 2, 2016 2:36 pm0 commentsViews: 210

بلوچستان کے علیحدگی پسند رہنمائوں کو لیاری میں پناہ دی جاتی تھی
لیاری پولیس کے اہلکار میری مرضی سے تعینات ہوتے تھے، ارشد پپو کو پولیس نے پکڑ کردیا
بھتہ خوری اور تاجروں پر حملوں کے لیے کم عمر نوجوانوں کو بھرتی کیاجاتا تھا
خالد شہنشاہ کو معلوم تھا کہ اسے قتل کردیاجائے گا، گینگ وار سرغنہ کے انکشافات
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر بلوچ نے مزید سنسنی خیز انکشافات کردیئے‘ نجی ٹی وی کے مطابق عذیر بلوچ کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے سیکورٹی انچارج بلال شیخ اور بلاول ہائوس کے سیکورٹی انچارج خالد شہنشاہ کو پیپلز پارٹی کی قیادت کے کہنے پر قتل کیا‘ برادر ملک کی خفیہ ایجنسی کی ایماء پر بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں ملوث رہا‘ بلوچستان کے علیحدگی پسند رہنمائوںکو لیاری میں پناہ بھی دی‘ بلوچستان کے5 سردار اسلحہ اور روپوشی میں مدد کرتے تھے‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو بھی کچھ دن لیاری میں رکھا‘ ملزم نے انکشاف کیا کہ پی پی قیادت نے رحمن بلوچ کو ایران سے بلا کر پولیس کے حوالے کیا‘ بلال شیخ اور خالد شہنشاہ کو پی پی قیادت نے مجھ سے قتل کرایا‘ فریال تالپور‘ ذوالفقار مرزا‘ نبیل گبول مکمل رابطے میں تھے‘ شاہجہاں بلوچ اور شرمیلا فاروقی بھی رابطے میں تھے‘ ‘خالد شہنشاہ کو معلوم تھا کہ اسے قتل کردیا جائیگا‘ خالدشہنشاہ نے بلاول ہائوس سے نکلنا بند کردیا تھا‘ اسے زبردستی بلاول ہائوس سے باہر بھیجا گیا ‘ملزم نے بتایا کہ ایران کا پاسپورٹ لے کر دبئی گیا‘ پی پی قیادت نے وہاں رابطہ کیا‘ دبئی پولیس نے پکڑا تو ایران نے کسٹڈی کیلئے بہت زور لگایا‘لیاری کے پولیس اہلکار میری مرضی سے تعینات ہوتے تھے‘ا رشد پپو کو پولیس نے پکڑ کر مجھے دیا‘ دریں اثناء لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ نے بھتہ خوری اور تاجروں پر حملوں کیلئے کم عمر نوجوانوںکی بھرتی کا انکشاف کیا ہے‘ ذرائع کے مطابق عذیر بلوچ کی سرپرستی میں بولٹن مارکیٹ‘ شیر شاہ مارکیٹ‘ پان منڈی میں کم عمر لڑکوں نے بھتہ نہ دینے پر تاجروں کی دکانوں پر تالے بھی کم عمر نوجوانوں نے لگائے‘ بھتہ نہ ملنے پر نوجوان لڑکے دکانوں پر دستی بم حملے بھی کرتے تھے‘ عذیر بلوچ سے ہر پہلو پر تفتیش کی جارہی ہے‘ بابا لاڈلہ‘ استاد تاجو‘ امینی بلیدی‘ وصی لاکھو‘ عمر کچھی‘ اٹاٹو‘فیصل پٹھان‘ ملانثار گینگ وار کے اہم کردار تھے‘ ادھر رینجرز نے عذیر بلوچ سے تفتیش کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جے آئی ٹی بنانے کی درخواست محکمہ داخلہ سندھ کو ارسال کردی ہے۔