مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں دنگل ہونیوالا ہے

February 2, 2016 3:08 pm0 commentsViews: 17

فروری کا مہینہ حکومتی ایوانوں پر بھاری گزرے گا ،سیاسی ماہرین و مبصرین کے تبصرے
اسلام آباد(آن لائن) ملکی سیاسی ماہرین و مبصرین نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرے میں کہا ہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ’’ دنگل‘‘ہونیوالا ہے ، فروری کا مہینہ حکومت ایوانوںپر پھر ’’بھاری‘‘ رہے گا، سیاسی ماہرین دانشوروں اور مبصرین نے بتایا کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے حالیہ اجلاس میں کراچی آپریشن اور رینجرز کے حوالے سے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کا معاملہ کئی بار زیر غور آیا۔ حکمران جماعت کی اندرونی کہانی سے واقف ایک دانشور کاکہنا ہے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف دہشت گردوں اور شدت پسندوں سے تعلقات کے پختہ ثبوت ہیں، حکومت ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں نہیں تھی۔تاہم وزیر اعظم رینجرز کی جانب سے محض کرپشن کے الزامات میں سیاست دانوں کی گرفتاری پر نالاں ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) کو اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے پورے اختیارات حاصل ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ رینجرز صرف ان سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرے گی، جن کا دہشت گردوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق پایا جائے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی مفاہمت کی راہ پر چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے حکمراں جماعت کے سربراہ کے لیے مشکل کردیا ہے کہ وہ وسیع سیاسی اتفاق رائے برقرار رکھ پائیں۔