پی آئی اے کا بحران سنگین آج صبح،100پروازیں منسوخ

February 3, 2016 2:07 pm0 commentsViews: 22

پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کا پیپلزپارٹی نے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، سندھ حکومت مظاہرین کو بھرپور سپورٹ کررہی ہے، ڈی آئی جی ایسٹ
پالپا کی جانب سے پائلٹوں کو طیارے اڑانے سے روک دیا گیا جس کے بعد پائلٹوں نے رات بارہ بجے پروازیں لے جانے سے انکار کردیا، فضائی آپریشن متاثر ہونے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا
پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کرنے والے ملازمین پر سیکورٹی فورسز نے دھاوابول دیا، جناح ٹرمینل میدان جنگ بن گیا،فائرنگ سے تین ملازمین جاں بحق، 20سے زائد زخمی، میڈیا کے نمائندوں پر بھی تشدد کیا گیا
کراچی کے واقعہ کے بعد ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سیکورٹی بڑھادی گئی، پی آئی اے کی ہڑتال نیاقومی بحران بن گیا، پیپلزپارٹی کھل کر سامنے آگئی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی سب سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی ہے، کامران خان
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے میں بحران سنگین ہوگیا آج فلائٹ آپریشن معطل کئے جانے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں100 سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئیں۔ کراچی ایئر پورٹ سے روانہ ہونے والی16 پروازیں منسوخ ہو ئیں ملازمین کے احتجاج کے باعث ملک بھر میں تمام ایئر پورٹس پر سیکورٹی بڑھا دی گئی، اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بھی بند کردیا گیا جبکہ سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج بھی ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے،۔ جس کے بعد فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔ سول ایوی ایشن کی جانب سے بحران سے نمٹنے کیلئے متبادل انتظامات کئے گئے ہیں پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے سے مسافر پریشانی اور مشکلات کا شکار ہوگئے۔دوسری جانب پالپا کی جانب سے پائلٹوں کو طیارے اڑانے سے روک دیا گیا، منگل اور بدھ کی درمیانی رات12 بجے پائلٹوں نے طیارے اڑانے سے انکار کردیا تھا۔ جبکہ لاہور سے اندرون ملک جانے والی پروازیں بھی منسوخ کی جا رہی ہیں گزشتہ روز احتجاج کرنیوالوں پر گولیاں چلانے پر پی آئی اے ملازمین اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیدار سخت مشتعل ہوگئے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پالپا نے احتجاج اور ہڑتال کو جاری رکھنے کے علاوہ فضائی آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد آج صبح پروازوں کی روانگی متاثر ہوئی ہے۔ فضائی آپریشن متاثر ہونے سے مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف پی آئی اے کی ہڑتال سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی بھی سر گرم ہوگئی ہے۔ ڈی جی ایسٹ کامران فضل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت مظاہرین کی بھر پور سپورٹ کر رہی ہے کیونکہ ان کے مطالبات جائز ہیں۔ تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی ہڑتال نیا قومی بحران بن گیا، پر اسرار عناصر سر گرم ہوگئے ہی۔ حکومت اندھیری گلی میں کھڑی ہے۔ یہ واقع اس وقت ہوا جب وفاق اور سندھ کے درمیان سیاسی جنگ جاری ہے، ایسا لگتا ہے کہ پی آئی اے ورکرز اس جنگ کا ایندھن بن گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی معاملے کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی ہے۔ یہ صورتحال اس لئے بھی سنگین ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس واقعے کی ایف آئی آر میں رینجرز، سینئر حکومتی شخصیات اور وفاقی کابینہ کے اراکین کو بھی نامزد کرنا چاہتی ہے۔ جو اس کشمکش کے سیاسی ماحول میں ایک آگ بھڑکانے والا عمل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے رینجرز کو ہدایت دی تھیں کہ کراچی اسلام آباد اور لاہور ایئر پورٹ پر حساس تنصیبات اور مقامات کی نگرانی کرے اس لئے رینجرز تعینات کر دی گئی۔ لیکن حیران کن طور پر پولیس پیچھے رہی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے اپنے ہاتھوں سے لکھی درخواست وزیر اعلیٰ کو دی تھی جس میں شجاعت عظیم، ناصر جعفر، مشاہد اللہ، مقصود اور آصف الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی تاہم انہوں نے اب کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے ذریعے مقدمہ درج کرائیں گے۔ ڈی جی پولیس ایسٹ کامران فضل نے بتایا کہ درخواست کی وصولی پر اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ سندھ حکومت مظاہرین کی بھر پور سپورٹ کر رہی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور نے مظاہرین کے پاس جا کر اظہار یکجہتی کیا ہے۔، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی درخواست وزیر اعلیٰ ہائوس نے وصول کی۔ ڈی آئی جی ایسٹ کو اسی وقت طلب کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اس کیس پر تمام کارروائی کی جائے۔