ریلوے میں 92کروڑ کی کرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا

February 3, 2016 2:34 pm0 commentsViews: 31

خانیوال رائے ونڈ ریلوے ٹریک کی از سرنو تعمیر اور بحالی کے دوران ریلوے افسران نے 159 کمزور پلوں کی تعمیر اور بحالی پر 277ملین کے ٹھیکے میں گھپلے کئے
2014ء کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق 277ملین کے بجائے 787 ملین خرچ کرکے کروڑوں کا ٹیکہ لگایا گیا، وفاقی وزیر ریلوے ،چیئرمین اور سیکریٹری ریلوے کیخلاف تحقیقات شروع
اسلام آباد( آن لائن) پاکستان ریلوے میں92 کروڑ کرپشن اور مالی بد عنوانی کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آگیا ہے۔ اسکینڈل کے دستاویز ی ثبوت ہونے پر چیئر مین ریلوے اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سیکریٹری ریلوے کے خلاف کرپشن تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آن لائن کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے کا خانیوال رائے ونڈ ریلوے ٹریک کی از سر نو تعمیر اور بحالی کے دوران ریلوے افسران کے92کروڑ روپے کی مالی بد عنوانی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت خانیوال سے رائیونڈ ریلوے ٹریک کے راستے میں159 کمزور پلوں کی تعمیر اور بحالی کیلئے ایک پی سی ون تیار کیا گیا ہے۔ پلوں کی بحالی کے منصوبہ کیلئے277 ملین روپے رقم مختص کی گئی تھی جس کا ٹھیکہ بھی متعلقہ کمپنیوں کو دے دیا گیا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیتے ہوئے ٹھیکیداروں کو92کروڑ روپے اضافی ادا کئے، پاکستان ریلوے حکام کی طرف سے92 کروڑ روپے کی اضافی ادائیگی کرنے کی نشاندہی آڈٹ حکام نے اپنی رپورٹ2014ء میں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی سی ون کے تحت موجودہ پلوں کی بحالی پر234 ملین جبکہ سگنل پر43 ملین خرچ ہوئے تھے۔