ڈولفن مچھلی کو دریائے سندھ کے بالائی حصے پر منتقل کرنے پر غور

February 3, 2016 3:13 pm0 commentsViews: 63

پانی کی مسلسل کمی کے باعث اس نایاب مخلوق کی آبادی80 فیصد تک کم ہو چکی ہے
محفوظ پانیوں میں منتقل کرکے مزید ہلاکتوں سے بچایا جا سکتا ہے، جرنل میں شائع رپورٹ
کراچی(اسٹاف رپورٹر) حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تیزی سے کم ہوتی ہوئی نایاب اندھی ڈولفن کو ان کے مسکن سے نکال کر دریائے سندھ کے اوپری حصے پر منتقل کرنے سے شاید ان کی بقا کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ ماہ بائیلوجویکل کنزرویشن نامی جرنل میں شائع ایک رپورٹ میں پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین نے خیال پیش کیا ہے کہ ایک وقت میں دریائے سندھ کی ڈولفن3500کلومیٹر طویل رقبے پر کناروں کے اطراف موجود تھی لیکن پانی کے مسلسل استعمال اور زرعی آبپاشی کے بعد ان کی تعداد 80فیصد کم ہوچکی ہے اور اب1200سے 1700ڈولفن ہی باقی بچی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس حساس اور نایاب ممالیے کو دریائے سندھ کے بالائی اور نسبتاً محفوظ پانیوں میں منتقل کرکے ان کی مزید ہلاکتوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ آج تمام ڈولفن دریائے سندھ کے 189کلومیٹر علاقے میں پائی جاتی ہیں اور اسی جگہ آب پاشی کے نالوں میں یہ مچھلیں پھنس جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ دریائی آلودگی، پانی کے بہائومیں کمی اور ماہی گیری کی وجہ سے ڈولفن مررہی ہیں۔ اب ڈولفن صرف189کلومیٹر طویل دریائی پٹی میں موجود ہیں جسے ایک پناہ گاہ کا درجہ دیدیا گیا ہے۔دوسری جانب سندھ وائلڈ لائف محکمے کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈولفن کو منتقل کرنے کا منصوبہ خطروں سے خالی نہیں ۔ ہرسال ڈولفن زرعی آب پاشی کی نالیوں میں پھنس جاتی ہیں جنہیں دوبارہ دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن اس حساس جانور کو دریا تک لے جانا ممکن ہوتا ہے لیکن دریائے سندھ کے بالائی پانیوں میں منتقلی سے خود اس جانور کی بقا کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔