ایم کیو ایم کی ہیر سو ہونے صوبائی وزیر داخلہ کو مشکل میں ڈال دیا

February 5, 2016 2:47 pm0 commentsViews: 19

یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ دسمبر2012 میں 6 ماہ کے دوران66 گاڑیاں چوری کی گئی ہوں اور 104 برآمد ہوئی ہوں
سہیل انور سیال اس غلطی پر لا جواب ہو گئے، سوالوں کے جواب نہ دینے پر ایوان میں قہقہے گونجتے رہے
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں جمعرات کو وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے لیے اس وقت مشکل صورت حال پیدا ہو گئی ، جب ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے ایک سوال کے تحریری جواب کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جولائی سے دسمبر 2012 تک 6 مہینوں میں 66 گاڑیاں چھینی گئی ہوں اور 104 گاڑیاں بازیاب ہوئی ہوں ۔ ہیر اسماعیل سوہو نے ایک اور غلطی کی بھی نشاندہی کی ۔ اس پر وزیر داخلہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے ۔ سہیل انور سیال نے کہا کہ میں وزیر داخلہ ہوں ۔ میرا کام امن وامان کنٹرول کرنا ہے ، ٹائپنگ کرنا نہیں ۔ ٹائپنگ کی غلطی کو درست کیا جائے گا ۔ انہوں نے بعد میں وضاحت کی کہ اس مدت سے پہلے والی گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہوں ۔ زیادہ تر ضمنی سوالوں پر وزیر داخلہ نے یہی جواب دیا کہ یہ ’’ نیا سوال ‘‘ ( Fresh Question ) ہے ۔ اپوزیشن ارکان خود ہی ضمنی سوال کرتے اور خود ہی کہہ دیتے کہ یہ نیا سوال ہے ۔ جب وزیر داخلہ یہ کہتے کہ یہ نیا سوال ہے تو ایوان میں قہقہہبلند ہوتا ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے بار بار چیخ کر کہا کہ وزیر داخلہ خود جواب نہیں دے پا رہے ، انہیں گیلریز سے پرچیاں مل رہی ہیں ۔ وہ پرچیوں پر چل رہے ہیں ۔ ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا ضمنی سوالوں کے دوران مداخلت کرتیں تو ارکان ان سے کہتے کہ آپ مداخلت نہ کریں وزیر داخلہ کو جواب دینے دیں ۔