کے ایم سی کا محکمہ تعلیم غیر فعال، 8ہزار ملازمین کی کروڑوں روپے کی ادائیگیاں خطرے میں پڑگئیں

February 8, 2016 1:16 pm0 commentsViews: 27

ملازمین کو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات، 200گھوسٹ قرار دیئے گئے ملازمین کی بحالی کا کام بھی ٹھپ
غیر یقینی صورتحال کے باعث اسکولوں میں تدریسی عمل بند، ہزاروں طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا، ملازمین میں شدید بے چینی پھیل گئی
کراچی(سٹی رپورٹرپورٹر) کے ایم سی کامحکمہ تعلیم مکمل طور پر غیر فعال ہوگیابلدیہ کراچی سے ڈی ایم سیز کو منتقل کئے جانے باعث ملازمین کو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی شدید مشکلات پیش آنے کا امکان محکمہ تعلیم کے 8 ہزار سے زائد ملازمین کے ٹائم اسکیل کی مد میں کروڑوں روپے ڈوبنے کا خطرہ،بلدیہ کراچی سے ڈی ایم سیز کو منتقل کئے جانے والے ملازمین میں شدید بے چینی پھیل گئی،پے رول سسٹم علیحدہ ہونے کے باعث ملازمین کو ماہانہ تنخواہوں کے بل پرنٹ ہونے میں بھی شدید مشکلات پیش آنے کا امکان،سات سو سے زائدگھوسٹ قرار دیئے گئے ملازمین کی بحالی کا کام بھی ٹھپ،غیر یقینی صورتحال کے باعث اسکولوں میں تدریسی عمل بند، ہزاروں طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا،سالانہ امتحانات کی تیاری بھی نہ ہوسکی،محکمہ تعلیم مکمل طور پر غیر فعال ہوکر رہ گیا۔تفصیلات کے مطا بق بلدیہ عظمیٰ کراچی محکمہ تعلیم کے 8ہزار سے زائد ملازمین کوضلعی بلدیات کے حوالے کئے جانے کے فیصلے پر ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے،ذارئع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کا عرصہ دراز سے ٹائم اسکیل کا مسئلہ تاحا ل حل نہیں ہوسکا ہے ،زرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ٹائم اسکیل کی مد میں ملازمین کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کرنی ہے تاہم ملازمین ڈی ایم سیز میں ضم ہونے کی صورت میں ملازمین کے ٹائم اسکیل کی مد میں کروڑوں روپے ڈوبنے کا امکان ہے،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی اور ڈی ایم سیز کا پے رول سسٹم مختلف ہونے کے باعث ملازمین کی ماہانہ تنخواہوںکی ادائیگی بھی خطرے میں پڑی ہوئی ہے ،جبکہ دوسری طرف محکمہ تعلیم کے گھوسٹ قرار دیئے گئے 700سے زائد ملازمین کی بحالی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ فیصلہ کئے بغیر ملازمین کو ڈی ایم سیز میں منتقل کئے جانے سے مذکورہ سات سو سے زائد ملازمین کا مستقبلسوالیہ نشان بنا ہوا ہے،واضح رہے کہ مذکورہ ملازمین کو جعلی بھرتیوں کے الزام میں معطل کیا گیا تھا جس کیلئے انکوائری کمیٹی بنائی گئی جس کا حتمی کو ئی فیصلہ نہیں آسکا ہے ،موجودہ صورتحال میں بلدیہ کراچی کا محکمہ تعلیم جو کہ اب ڈی ایم سیز کو منتقل کیا گیا ہے مکمل طور پر غیر فعال ہوکر رہ گیا ہے،ملازمین اپنی تنخواہوں،ٹائم اسکیل سمیت دیگر ادائیگیوں کو ڈوبتا ہو ا دیکھ رہے ہیں تو دوسری طرف سات سو سے زائد ملازمین کا مستقبل سوالیہ نشان ہے ،ان تما م مسائل کے باعث محکمہ تعلیم میں تدریسی عمل بری طرح سے متاثر ہورہا ہے ،اور ہزاروں طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اسکولوں میں سالانہ امتحانات کی تیاری بھی نہیں کرائی جاسکی ہے جن کارواں ماہ میں انعقاد ہونا ہے۔