مسافروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر غیرمحفوظ فلائٹ آپریشن شروع کردیاگیا

February 8, 2016 1:19 pm0 commentsViews: 17

پی آئی اے انتظامیہ اور حکومتی کوششوں کے بعد فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا، 10ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروازیں چلائی جاسکیں
وزیراعظم کمیٹی بنائیں تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، پی آئی اے انتظامیہ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے، زبردستی اڑائے جانے والے طیاروں کو حادثہ ہوا تو ذمہ دار انتظامیہ ہوگی، سہیل بلوچ کی پریس کانفرنس
آج صبح بھی لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس سے پروازوں کی روانگی، کراچی میں آپریشن بحال نہیں ہوسکا، سات روز میں 800 سے زائد پروازیں منسوخ ہونے سے پی آئی اے کو تین ارب روپے زائد کا نقصان ہوچکا ہے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے کا فضائی آپریشن جزوری طور پر بحال ہوگیا کراچی میں بھی پروازیں شروع کرنے کیلئے کوششیں تیز کر دی گئیں آج کسی وقت فضائی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ ملازمین کے احتجاج کے باوجود پی آئی اے کے طیارے اڑان بھرنے لگے۔ قومی ایئر لائن کا فلائٹ آپریشن اسلام آباد اور لاہور سے بحال ہوگیا۔ قومی ایئر لائن کے دو طیارے جدہ میں پھنسے 7 سو عمرہ زائرین کو لے آئے۔ دونوں طیارے7 سو عمرہ زائرین کو لے کر اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تو عمرہ زائرین وطن واپسی پر بہت خوش ہوئے اور سجدہ شکر ادا کیا۔ آج ساتویں روز پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال جاری ہے تاہم حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں اور پی آئی اے نے کچھ پروازیں چلا دیں تاہم کراچی سے آپریشنز بحال نہ ہوئے سات روز میں800 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ نقصان تین ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ دوسری جانب چیئر مین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو گمراہ کیا جا رہا ہے وزیر اعظم پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ وہ پی آئی اے ملازمین کی بات سنیں اگر وزیر اعظم بات نہیں سنیں گے تو پھر کوئی اور سنے گا۔ وزیر اعظم کمیٹی بنائیں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر غیر محفوظ فلائٹ آپریشن شروع کر دیا ہے زبردستی اڑائے جانے والے طیاروں کو اگر حادثہ ہوا تو اس کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ اتوار کو کراچی میں پی آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیپٹن سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات شروع کئے جائیں۔ قبل ازیں گزشتہ روز پی آئی اے انتظامیہ اور حکومتی کوششوں کے بعد پی آئی اے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا۔ اتوار کو پی آئی اے کی جانب سے140 میں سے مجموعی طور پر10 ڈومیسٹک اور انٹر نیشنل پروازیں چلائی جاسکی ہیں ذرائع کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ نے عمرہ زائرین کو وطن واپس لانے کیلئے اپنے دو خالی بوئنگ777 طیارے جدہ روانہ کئے جو اتوار کو 6 سو سے زائد عمرہ زائرین کو راولپنڈی واپس لائے۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال کرنے کیلئے وزیر اعظم کے سابق مشیر برائے ایوی ایشن کیپٹن شجاعت عظیم نے کوششیں تیز کر دیں اور وہ آپریشن بحالی کے منصوبے کی نگرانی خود کر رہے ہیں پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال کرنے کیلئے پی آئی اے انتظامیہ نے طیارے اڑانے کیلئے ہڑتال مخالف پائلٹوں کی مدد حاصل کرنے کیلئے ان سے رابطے کر لئے ہیں جنہوں نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے اسی طرح انتظامیہ نے فضائی میزبانوں اور گرائونڈ اسٹاف کی فراہمی کیلئے شاہین ایئر لائن سے مدد طلب کرلی ہے۔ پی آئی اے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ ہڑتال سے اب تک800 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں جس سے ڈھائی ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ انتظامیہ نے تمام ملازمین کو نوکری پر آنے کا کہا ہے ہوائی اڈوں پر بتدریج فلائٹ آپریشن بحال ہوجائیگا۔ پائلٹ سمیت ڈیوٹی پر آنے والوں نے جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ کام پر واپس آنے والے عملے کو تحفظ دے رہے ہیں دوسری طرف ذرائع نے بتایا کہ طیاروں کی روانگی میں انتظامیہ نے سیفٹی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ کوئی پرواز معاون پائلٹ کے بغیر بھیجی گئی تو کسی طیارے میں فضائی میزبان نہ ہونے کے برابر ہے فلائٹ سیفٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر اکائو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے خلاف بھی نوٹس لے سکتی ہے اور متعلقہ پائلٹوں کا لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے۔ فلائٹ انجینئرز کی عدم دستیابی قومی فضائی کمپنی کی پروازوں کی کلیئرنس کیلئے تاحال مسئلہ بنی ہوئی ہے۔