ہڑتالی ملازمین کیخلاف کریک ڈائون شروع آج صبح تین رہنما پندرہ دن کیلئے نظر بند

February 9, 2016 12:30 pm0 commentsViews: 28

کراچی اور اسلام آباد سمیت تمام ایئرپورٹس کے اطراف رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی،225ہڑتالی ملازمین کو نوٹس جاری کردیے گئے
وزیراعظم کی ہدایت کے بعد ملک بھر میں پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، فہرستیں تیار کرلی گئیں، گرفتاری کیلئے آرڈرز چاروں صوبوں کے پولیس افسران کو بھجوادیے گئے
ڈیوٹی پر واپس نہ آنے والے ملازمین کو جرمانے اور سزائوں کا سامنا کرنا پڑے گا، حکومت نے ہڑتالی ملازمین سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا، فلائٹ آپریشن کی مکمل بحالی تک مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیراعظم نوازشریف
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے سخت احکامات ملنے کے بعد پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین پر حکومت نے کریک ڈائون شروع کر دیا ہے۔ آج صبح راولپنڈی میں پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے پندرہ دن کیلئے نظر بند کر دیاگیا گرفتار کئے جانے والے رہنمائوں میں طارق ڈار، سہیل افتخار اور سلیم بھٹی پر الزام ہے کہ انہوں نے فلائٹ چلانے پر پائلٹوں کو دھمکیاں دیں انہوں نے رہنمائوں کو 25 ڈی ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ذرائع کے مطابق آج کراچی اور اسلام آباد سمیت مزید شہروں میں بھی پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کی گرفتاریوں کا امکان ہے۔ جس کیلئے فہرستیں تیار کر لی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ان رہنمائوں کی گرفتاری کیلئے چاروں صوبوں کے پریس افسران کے آرڈر بھی روانہ کر دئیے ہیں ۔ کراچی میں پی آئی اے کا چیئر مین سیکریٹریٹ اور اسلام آباد میں دفاتر کھل گئے ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد میں ایئر پورٹ کی حدود میںدفعہ144 نافذ کرکے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے، ایئر پورٹ کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ پی آئی اے لازمی سروسز ایکٹ پر عملدر آمد کیلئے قائم خصوصی کمیٹی کی ہدایت پر225 ہڑتالی ملازمین کونوٹسز جاری کر دئے گئے ہیں جن ملازمین کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں ان مین کراچی کے64، اسلام آباد کے 84 ، لاہور کے60 اور پشاور کے45 ملازمین شامل ہیں تمام ملازمین کو72 گھنٹوں میں نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پی آئی اے ملازمین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان کے تمام ایئر پورٹس پر بھاری پولیس اور رینجرز کی نفری کو الرٹ رہنے اور دفترو ں حاضری نہ دینے والے ملازمین کو ایک ہفتے کے اندر اندر انضباطی کارروائی شروع کرنے کا بھی آغاز ہوگا۔ بہت جلد نئی آسامیوں کیلئے اسٹاف بھرتی کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ہڑتال شدہ ملازمین سے آڑے ہاتھوں نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لازمی سروسز ایکٹ کا اطلاق کر دیا ہے اور تمام پی آئی اے ملازمین کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر واپس نہ آنے والے ملازمین کو جرمانہ اور سزائوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ ایک حکم کے مطابق پی آئی اے کے تمام ملازمین کی تنخواہیں بھی بند کر دی گئی ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں حکومت ہڑتالی ملازمین کو گرفتار کرکے جیلوں کا راستہ دکھائے گی جس کیلئے چاروں صوبوں کے پولیس افسران کو آرڈر بھجوائے جا چکے ہیں ملازمین کو جلسوں اور جلوسوں میں سے یا ان کے گھروں پر راتوں کو چھاپے مار کر گرفتار کرلیا جائے گا۔ حکومت نے پی آئی اے کے مسافروں کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے تمام ایئر پورٹس سے کمپیوٹرز اٹھا لئے ہیں اور سارا ریکارڈ شاہین ایئر لائن کے سپرد کر دیا گیا ہے اور مسافروں کی آمد و رفت کو جاری رکھنے کیلئے شاہین ایئر لائن کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ہڑتال کا حصہ بننے والے تمام ملازمین کی لسٹیں تیار کرلیگئی ہیں ان کی جگہ ایمر جنسی بنیادوں پر کنٹریکٹ اسٹاف بھرتی کرکے ادارے کے نظم و نسق کو چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ پی آئی اے میں ایک ہزار ملازمین کو پہلے ہی بھرتی کر لیا گیا ہے۔ جس میں کیبن کریو وومینز اور مرد شامل ہیں جو فلائٹ آپریشن کا حصہ بنا لئے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ایک ہاٹ لسٹ تیار کی گئی ہے جس میں شامل ملازمین اور یونین کے عہدیداران کو گرفتار کیا جائے گا۔ پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی گرفتاری کا امکان بھی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ فلائٹ آپریشن کی مکمل بحالی تک پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین سے مذاکرات نہیں کریں گے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ پہلے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بحال کیا جائے اس کے بعد مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔