ہائیڈرنٹس مافیا کیخلاف کارروائی کیلئے ایم ڈی واٹر بورڈ نے حکومت سے مدد مانگ لی

February 9, 2016 1:02 pm0 commentsViews: 17

ہوم سیکریٹری، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد اور ملزمان کیخلاف کارروائی کو یقینی بنائیں
سینکڑوں ہائیڈرنٹس کی مسماری اور سینکڑوں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پانی چور سرگرم ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے
کراچی ( سٹی رپورٹر)کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے صوبائی ہوم سیکریٹری سندھ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجر ز ( سندھ)، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سے تحریری طور پر درخواست کی ہے کہ ہائیڈرنٹس پانی چوری میں ملوث افراد کے خلاف واٹر بورڈ کے ترمیمی ایکٹ 2015 ء کے آرڈیننس کے مطابق کارروائی کرنے کیلئے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی جائیں تا کہ اس گھنا ؤنے عمل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جا سکے اور اس سخت کاروائی کے ذریعے اس مافیا کا قلع قمع ہو سکے گا کیونکہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ہائیڈرنٹس مافیا مکمل آزادی سے سرگرم ہے ،جبکہ سپریم کورٹ نے تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کرنے کے احکامات دیئے ہیں ،واٹر بورڈ کے سینکڑوں ہائیڈرنٹس مسمار کر نے اورہزاروں FIR لکھوانے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جزا و سزا کا عمل مفقود ہے ، جس کی وجہ سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ،اور مسمار کر نے کے باوجود وہی ہائیڈرنٹس بار بار کھل جاتے ہیں اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ایکٹ پر عمل نہ کیا گیا تو غیر قانونی ہائیڈرنٹس کا کبھی خاتمہ نہیں ہو سکے گا، جو سپریم کورٹ کے احکامات کی حکم عدولی ہو گی ،ایم ڈی واٹر بورڈ نے مراسلے میں کہا ہے کہ پانی چوری کے سلسلہ میں واٹر بورڈ کے 1996 کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد حکومتِ سندھ کی جانب سے واٹر بورڈکا ترمیمی آرڈی نینس 2015 ء کا اجراء جولائی 2015 میںہو چکا ہے جس کے تحت پانی کی چور ی میں ملوث افراد کو قید کی سزا،جائیداد ضبط اور جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا جس پر اس سزا کے خوف سے شہر میں پانی کی چوری کا یقینی طور پر خاتمہ ہوسکے گا جس سے پانی کی فراہمی کی صورتحال میں بہتری آئے گی ،یہ نوٹیفیکیشن حکومتِ سندھ کے گزٹ میں بھی16جولائی 2015 ء میں شائع ہو چکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ واٹر بورڈ کا عملہ پانی کی چوری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گا اور انکے خلاف متعلقہ تھانوں میں اس ایکٹ کے تحت FIR درج کرائی جائیں گی تاکہ پانی چوروں کو قرار واقعی سزا مل سکے