کراچی میں داعش کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ،سیکورٹی اداروں نے حکمت عملی تیار کرلی

February 10, 2016 5:07 pm0 commentsViews: 17

شہر کے درجنوں مقامات پر شدت پسند تنظیم کے بینرز اور وال چاکنگ نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا
حساس اداروں نے شہر میں داعش کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا سراغ لگالیا،دہشت گرد تنظیم کی جانب سے شہر میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جانے کی اطلاعات کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے
کراچی کے مضافات میں کالعدم تنظیموں کے10سے زائد گروپس سرگرم ہیںجوپہلے سے زیادہ فعال ہوچکے ہیں، شہر میں ہونے والی دہشت گردی میں یہ ہی کالعدم تنظیمیں ملوث پائی گئی ہیں، رپورٹ
کراچی کرائم ڈیسک) کراچی اور اس کے مضافات کے علاقوں میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد کراچی میں داعش کیخلاف سیکورٹی اداروں نے گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا‘ حکمت عملی تیار کی جارہی ہے‘ انٹیلی جنس اداروں کو بھی فعال کردیا گیا‘ ذرائع کے مطابق ملکی سلامتی پر مامور حساس اداروں نے شہر میں ایک بار پھر بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا سراغ لگالیا ہے‘ داعش کے سہولت کار اور مدد گار شہریوں کی ذہن سازی کے ساتھ بینر لگانے اور وال چاکنگ کرنے لگے ہیں۔ شہر کے درجنوں مقامات پر آویزاں پراسرار بینرز اور دھمکی امیز لہجے کی وجہ سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ داعش کے دہشت گرد شہر میں بڑی کارروائی کیلئے منصوبہ بندی بھی کررہے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس قسم کی تحریر کچھ عرصے سے شہر میں لگائی جارہی تھیں تاہم حالیہ چند روز کے دوران لگائے جانیوالے بینرز ہاتھ سے لکھے ہونے کے ساتھ ان کے نیچے لگوانے والے کا نام یا تنظیم کا نام درج نہیں ہے‘ ذرائع نے کہا کہ اسی طرح سے مختلف مضافاتی علاقوں میں انتہائی حساس علاقوں میں وال چاکنگ بھی کی گئی ہے‘ ذرائع نے مزید کہا کہ داعش نیٹ ورک کی جانب سے دوسرے مرحلے میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے اور اس حوالے سے چند روز قبل سہراب گوٹھ کے ایک خفیہ ٹھکانے پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس کی صدارت کالعدم تنظیموں کے3 بڑے کمانڈروں نے کی۔ ذرائع کے مطابق شہرقائد اور مضافات میں کالعدم تنظیموں کے 10سے زائد گروپس سرگرم ہیں اور کافی فعال ہوچکے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں کے مختلف دھڑے شہر قائد میں مضبوط جگہ بناچکے ہیں جبکہ کراچی میں ماضی میں ہونے والے مختلف بڑے دہشت گردی کے واقعات میں کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں جن میں سانحہ صفورا ،ایئرپورٹ حملہ ،رینجرز اہلکار قتل ،ملٹری پولیس کیس ،ٹریفک اہلکار قتل کیس ،پولیس موبائلوں پر حملے ،سبین محمود قتل کیس میں بھی کالعدم تنظیموں کی کڑیاں ملی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق سہراب گوٹھ کا ٹی ٹی پی کمانڈر خان زمان خان کالعدم تنظیموں کو یکجا کررہا ہے ۔خان سجنا گروپ ،چھوٹا عابد گروپ ،گل کان ،گل زمان ،قادر ملنگ گروپ سمیت دیگر گروپوں کو عراقی انتہا پسند تنظیم داعش میں ضم کررہا ہے جبکہ القاعدہ امیر شکیل برمی دونوں گروپوں کی کمان کررہا ہے ۔ ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے مطابق رضوان عرف آصف چھوٹو گروپ ،حافظ قاسم گروپ ،مولوی فضل اللہ گروپ اور عمر خالد خراسانی گروپ بھی داعش میں شامل ہو کر اپنی قوت کو یکجا کررہے ہیں ۔سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ خان زمان خان اور آصف چھوٹو کے سرکی قیمت 25,25لاکھ روپے مقرر ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری املاک پر حملے بھی یہی گروپس کررہے ہیں اور اسی گروپ نے حالیہ محرم الحرام میں 6بم دھماکے کرانے تھے مگر حساس اداروں نے یہ منصوبہ ناکام بنادیا تھا ۔